0

سمندر میں شکر کی بڑی مقدار موجود ہے!

برلن: سمندر کھارے پانی سے بھرا ہوا ہے لیکن اب سائنسدانوں نے اس کے فرش پر چھپے ایسے ہزارہا گوشے دریافت کئے ہیں جن کے نیچے مختلف قسم کی شکروں کی بڑی مقدار موجود ہے۔

یہ مقامات سمندری گھاس (سی گراس) کے وہ بڑے بڑے مجموعے ہیں جو سمندری ماحول میں واحد پھولدارمقامات بھی ہیں۔ ایک جانب توان کے نیچے شکر موجود ہے تو دوسری جانب یہ خشکی کے جنگلات کےمقابلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی دگنی مقدار جذب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماحول دوستی میں یہ لاجواب ہیں۔

جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق شائع کرائی ہے اور کہا ہے کہ سمندری گھاس اپنی جڑوں سے شکر کی بڑی مقدار خارج کرتی ہے جو اطراف کی مٹی میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اس پورے مقام کو رائزواسفیئر کہا جاتا ہے۔ یعنی پورے سمندر سے بھی 80 گنا زائد شکر یہاں پائی جاتی ہے۔

اس طرح خیال ہے کہ سمندروں میں کوکا کولا کے 32 ارب ٹن کے برابر شکر موجود ہے جو 60 لاکھ سے ایک کروڑ تیس لاکھ ٹن چینی کے برابر ہے۔ سمندری گھاس فوٹو سنتھے سز(ضیائی تالیف) کے عمل سے مختلف شکریات بناتی ہے جو ان کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ تاہم وہ اپنی ضرورت سے زائد شکر بناتی ہے اور وہ سکروز کی شکل میں رائزوسفیئر میں شامل ہوتی رہتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ شکر جمع کیوں ہورہی ہے اور آبی ماحول میں موجود لاکھوں کروڑوں خردنامیے اسے استعمال کیوں نہیں کررہے۔ سائنسدانوں نے اس پر بھی غور کیا ہے۔ پتا چلا کہ شکر کے ساتھ فینولک مرکبات بھی خارج ہوتے رہتے ہیں جنہیں دیگر سمندری جاندار ہضم نہیں کرسکتے اور یوں وہ سکروز قسم کی شکر استعمال نہیں کرتے۔

سائنسدانوں نے زور دے کر کہا ہے کہ سمندری گھاس کے بڑے مجموعوں کو بچانا بہت ضروری ہے کیونکہ ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار محفوظ ہے۔ اگر انہیں نقصان پہنچا تو سمندر میں 154 ملین ٹن کاربن خارج ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں