0

نیوی سیلنگ کلب گرانے، نیول فارمزتحویل میں لینے کے فیصلے چیلنج

اسلام آباد: نیوی سیلنگ کلب گرانے،نیول گالف کورس اورپاکستان نیول فارمز کی اراضی تحویل میں لینے کے فیصلوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

پاکستان نیوی نے نیوی سیلنگ کلب گرانے، پاکستان نیول فارمز کی اراضی تحویل میں لینے اورنیول گالف کورس کو سی ڈی اے کی تحویل میں دینے کے فیصلوں کواسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ پاکستان نیوی نے دوانٹراکورٹ اپیلوں میں سنگل بینچ کے الگ الگ فیصلوں کوچیلنج کیا۔پاکستان نیوی نے انٹرا کورٹ اپیلوں پرآج ہی سماعت کے لئے بینچ تشکیل دینے اوراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے 7 اور11 جنوری کے عدالتی فیصلوں کوکالعدم قراردینے کی بھی استدعا کی۔

پاکستان نیوی نے نیوی سیلنگ کلب ، نیول فارمز ، نیوی گالف کورس کے خلاف فیصلے فوری معطل کرنے کی بھی درخواست دائرکی۔ درخواست میں کیس کے حتمی فیصلے تک سنگل بینچ کے دونوں فیصلے معطل کرنے کی استدعا کی گئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے فوری حکم امتناع کی بھی استدعا کی گئی۔ پاکستان نیوی کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل کے ساتھ دو متفرق درخواستیں بھی دائرکی گئیں۔ انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت شروع ہوگئی ہے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 7 جنوری کو نیوی سیلنگ کلب کو 3 ہفتوں میں گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے پاکستان نیول فارمز کے لیے جاری کیے گئے این او سی کو بھی غیر قانونی قرار دیا تھا اورنیول فارمز کی اراضی کو اتھارٹی کی تحویل میں دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ نیوی گالف کورس کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ 11 جنوری کو سنایا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں