0

پاکستانی سائنسداں کی اختراع نیچرعالمی ایوارڈ کے لیے نامزد

کراچی: پاکستان کے ممتاز سائنسداں ڈاکٹر محمد افضل کی ایک اہم اختراع کو ہفت روزہ سائنسی جریدے ’نیچر‘ نے گلوبل امپیکٹ ایوارڈ کے لیے نامزد (شارٹ لِسٹ) کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد افضل کا تعلق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینیئرنگ سے ہے جہاں وہ پرنسپل سائنٹسٹ ہیں۔ واضح رہے کہ ان کی ایجاد پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتی ہے جس کا اعتراف ہفت روزہ نیچر نے بھی کیا ہے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی یہ اختراع نیچر سسٹین ایبلٹی کے سرورق پر بھی نمایاں کی گئی تھی۔

ڈاکٹر افضل اپنے ادارے میں ’آلودہ پانی کی نباتاتی صفائی‘ کے گروپ کے سربراہ ہیں جو ماحولیاتی تجربہ گاہ کا ایک ذیلی حصہ بھی ہے۔

انہوں نے نہ صرف تیرتی ہوئی آبی چٹائیوں کا تصور پیش کیا بلکہ اس کے ماڈل بنائے ہیں جو اب پاکستان کے کئی علاقوں میں آلودہ پانی کو صاف کررہے ہیں۔ ان چٹائیوں کو ’فلوٹنگ ویٹ لینڈز‘ کا نام دیا گیا ہے جنہیں چلانےکے لیے بیرونی مدد یا بجلی کی ضرورت نہیں رہتی۔

مقامی طور پر پاکستانی پودوں پر مشتمل سبزتیراک چٹائیوں کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ ان پر بین الاقوامی چٹائیوں کے مقابلے میں جو لاگت آئی ہے وہ 500 گنا تک کم ہے۔ اس لیے آلودہ پانی کے ذخائر کوصاف کرنے لئے یہ ایک بہترین حل پیش کرتی ہیں۔

کئی بین الاقوامی اعزازات کےعلاوہ ڈاکٹر محمد افضل کو پاکستان اکادمی برائے سائنس سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیچر نے آٹھ بین الاقوامی ماہرین کی فہرست میں ان کا نام تصویر پہلے نمبر پررکھی ہے۔

ان پیراک چٹائیوں کو فیصل آباد ایک ایسے جوہڑ میں آزمایا گیا ہے جس میں 60 فیصد پانی گھروں اور 40 فیصد پانی ٹیکسٹائل، کیمیا اور چمڑے کی صنعتوں کا تھا۔ طرح طرح کے آلودگیوں نے تالاب کو ٹیکنالوجی کی جانچ کے لیے ایک موزوں جگہ بنادیا تھا۔

دوسرے برس پیراک آب گاہوں کا جادو شروع ہوا اور پانی صاف ہونے کے تمام آثارظاہر ہوئے جنہیں تین درجوں میں بیان کیا جاسکتا ہے یعنی طبعی کیمیائی یعنی تیل، سلفیٹ، چکنائی اور دیگر حل شدہ ٹھوس اجزا میں کمی، دوم خردحیاتیاتی یعنی انسانی فضلے کے ذرات میں کمی اور سوم کیڈمیئم، کرومیئم، اور نِکل جیسی دھاتوں میں تخفیف واقع ہوئی۔ اس ٹیکنالوجی سے کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (سی او ڈٰی) میں 79 فیصد، بایوکیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (بی اوڈی) میں 88 فیصد اور تمام حل شدہ ٹھوس اجسام (ٹی او ڈی) میں 65 فیصد کم ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں